ہر انسان ترقی و کامیابی کا خواہشمند ہے۔ اب اس کی خواہش کس طرح کی کامیابی ہے، اس میں فرق ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم یہاں دنیا داری کی، مثبت کامیابی کی بات کریں گے۔
کامیابی بےشک قسمت سے ملتی ہے۔ لیکن قسمت بھی ان لوگوں کا ساتھ دیتی ہے، جو محنت کرتے ہیں( محنت اور مشقت میں فرق کو سمجھیں)۔ راستہ چنتے ہیں۔ کوئی بہتر طریقہ کار اپناتے ہیں۔ اور مشکلات کی صورت میں، طریقہ کار میں، حالات میں، حتی کہ اپنے آپ میں بدلاؤ لاتے ہیں۔ ہماری دنیا میں کامیاب لوگوں کی نسبت ، ناکامیاب لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ہر ایک کی ناکامی کی مختلف وجہ ہو سکتی ہے۔ لیکن کچھ وجوہات جو کامیابی کے امکانات کم کرنے کا باعث بنتی ہیں، ان میں ایک اہم کردار ہماری شخصیت، انداز اور عادات کا ہے۔
پورے نکات پہ مفصل بات کرنے یا لکھنے کیلئے تو شاید کتابیں بھی کم پڑھ جائیں۔ اس مضمون میں ہم چند ایسی عادت کا ذکر کریں گے۔ جو ہماری کامیابی کے امکانات کرتی ہیں۔ یا مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ یا ہماری مکمل ناکامی کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔
کامیابی بےشک قسمت سے ملتی ہے۔ لیکن قسمت بھی ان لوگوں کا ساتھ دیتی ہے، جو محنت کرتے ہیں( محنت اور مشقت میں فرق کو سمجھیں)۔ راستہ چنتے ہیں۔ کوئی بہتر طریقہ کار اپناتے ہیں۔ اور مشکلات کی صورت میں، طریقہ کار میں، حالات میں، حتی کہ اپنے آپ میں بدلاؤ لاتے ہیں۔ ہماری دنیا میں کامیاب لوگوں کی نسبت ، ناکامیاب لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ہر ایک کی ناکامی کی مختلف وجہ ہو سکتی ہے۔ لیکن کچھ وجوہات جو کامیابی کے امکانات کم کرنے کا باعث بنتی ہیں، ان میں ایک اہم کردار ہماری شخصیت، انداز اور عادات کا ہے۔
پورے نکات پہ مفصل بات کرنے یا لکھنے کیلئے تو شاید کتابیں بھی کم پڑھ جائیں۔ اس مضمون میں ہم چند ایسی عادت کا ذکر کریں گے۔ جو ہماری کامیابی کے امکانات کرتی ہیں۔ یا مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ یا ہماری مکمل ناکامی کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔
Destructive Habits That Will Hold you Back From Being Successful.
چند ایسی عادات جو آپ کو کامیاب ہونے سے روکیں گی ۔
1: Self-Doubt / اپنے آپ پہ شک
یہ شک اس طرح کا نہیں ہے، جو عموما عورتیں کرتی ہیں۔ یہ جس کو رومانوی ناولوں میں محبت کا دشمن اور دیمک جیسا کہا جاتا ہے۔ اس شک کو آپ ایسے واضح کر سکتے ہیں، کہ آپ میں احساس کم تری ہو، اگر آپ کو خود پہ یقین نہ ہو کہ "ہاں میں یہ کر سکتا ہوں" ہاں میرے لیے ممکن ہے۔ اور ہاں میرے اندر کوئی کمی نہیں۔
اگر آپ کو اپنی منزل، مقصد سے متعلق ابہام ہو۔ یہ واضح ہی نہ ہو کہ آپ کا اصل گول کیا ہے، ٹارگٹ کیا ہے۔ آپ ہمیشہ منفی انداز میں سوچ رہے ہیں، کہ پتہ نہیں کیا کرنا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں کیا ہو گا۔ تو اس طرح کے منفی خیالات آپ کو ایک جال میں پھنسا لیں گے۔ آپ کسی مقصد کی طرف کبھی نہیں بڑھ سکیں گے۔ لہذا اس مقصد میں کامیابی بھی نہیں حاصل ہو گی۔ آہستہ آہستہ اس طرح کی منفی سوچیں طاقتور ہوتی جائیں گی۔ اور آپ مغلوب و مفلوج ہوتے جائیں گے۔ لہذا ہمیشہ کم ازکم اپنے بارے میں مثبت سوچیں۔ جو آپ میں ہے، وہ کسی اور میں نہیں۔ اللہ نے آپ کو آپ کی سوچوں ،خواہشوں اور حدود میں مکمل بنایا ہے۔ اور اسی حساب سے صلاحیتوں سے بھی نوازا ہے۔ جس طرح کی صلاحیتیں آپ میں ہیں۔ وہی مکمل ہیں۔ جب آپ اپنے آپ پہ شک کرنا ختم کر دیں گے۔ تو آپ کی ساری توانائی، اور قدرت کی فورس آف اٹریکشن بھی آپ کی مددگار بن جائے گی۔
2: Thinking the world owes you a favor | خود کو دنیا کا لاڈلا سمجھنا
کچھ لوگ، اپنی ناکامی، برے حالات یا مشکلات کا الزام فورا دوسروں پہ ڈال دیتے ہیں، کہ او اگر وہ میرے لیے یہ کر دیتا، اگر وہ یہ نہ کرتا تو، اور میں تو ایسا کرنے لگا تھا لیکن اس نے کہا، اس طرح کے جملے آپ نے بہت سے لوگوں سے سنے ہوں گے۔ حتی کہ میں نے کچھ ایسے ناکام لوگ بھی دیکھے۔ جو اپنے نکمے پن اور محرومیوں کا الزام اپنے ماں باپ تک پہ ڈال دیتے ہیں۔ ( او ابا جی آپ نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا، ورنہ آج ہم بھی اتنے کامیاب ہوتے) ابا جی نے کچھ نہیں کیا تو آپ اتنے جوان کیا مٹی کھا کر ہو گئے۔ اباجی پہ فرض تو ہے نہیں کہ آپ سونے کا چمچے منہ میں لے کر پیدا ہونے والے بچے کہلاتے۔
بہت زہادہ محنت کے باوجود اگر ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی، تو اسے بد قسمتی کہا جا سکتا ہے۔ اور درستگی کر کے دوبارہ کوشش کی جا سکتی ہے۔ لیکن ایسے اپنی ناکامی کا زمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے والے ناکام کے ساتھ ساتھ نکھٹو بھی بن جاتے ہیں۔ لہذا ذمہ داری لیں خود پہ، کیونکہ اپنی زندگی کے گول کے زمہ دار آپ خود ہیں۔
3: Seeking for approval | لوگ کیا کہیں گے ۔
کسی ٹرک کے پیچھا لکھا یہ یادگار جملہ پڑھا تھا ( دنیا کا سب سے بڑا روگ، ، کیا کہیں گے لوگ)۔ ہم میں سے بہت سارے لوگوں کو یہ فکر رہتی ہے۔ کہ جو وہ کر رہے ہیں، جیسے وہ نظر آ رہے ہیں۔ اس پہ دوسرے ان کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔ بہت سی لڑکیاں کسی شادی پہ جو اس شش و پنج میں بار بار 12 جوڑے بدل کر اپنی بہن کزن سے پوچھتی رہتی ہیں۔ "یہ ٹھیک لگ رہا؟ موٹی تو نہیں لگ رہی، ؟ بلا بلا، آخر میں 12 اچھے جوڑے چھوڑ کر ایک بھونڈا سا پہن کر نکلتی ہیں۔ کیونکہ اسی شش و پنج میں انکا خود پہ اعتماد، قوت فیصلہ تذبذب کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ ایک بہت چھوٹی سی مثال دی۔ زندگی کی مسافت میں اسی مطلب کی بڑی مثالیں سامنے آتی ہیں۔ کہ ہم بہت سے بہتر کام جو ہم کو ہماری کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں، اس لیے نہیں کر پاتے کہ پتہ نہیں لوگ اس کو سراہتے ہیں یا نہیں۔
ایک حد تک دوسروں کی رائے لینا، سن لینا اچھی بات ہے لیکن آپ وہ کریں جو آپ کو لگتا ہے کہ آپ کر سکتے ہین۔ لوگ جو سوچتے ہیں ان کو سوچنے دیں۔
4: Goals that are undefined | منزل کا تعین نہ ہونا
بہت سے لوگوں کے سامنے ایک منزل ہوتی ہے، ایک مقصد ہوتا ہے۔ کہ میں اب یہاں ہوں، اور اس منزل پہ میں نے پہنچنا ہے۔ لہذا وہ اس خاص سمت جدوجہد کرتے ہیں۔ اور بالآخر کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یا کامیابی کے قریب تر پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کے سامنے صاف مقصد ہی نہ ہو۔ منزل کا تعین ہی نہ کر پا رہے ہوں، تو کس سمت جدوجہد کریں گے ؟ کیا ایسی بےسمت جدوجہد سے کوئی کامیابی ملے گی؟ زیادہ امکانات یہی ہیں۔ کہ آپ صحرا میں بھٹکنے جیسے، زندگی میں بھی کامیابی کیلئے بھٹکتے رہیں گے۔ کیونکہ اندھے کے ہاتھ میں بٹیر محاورے میں ہی آتا ہے۔ حقیقی زندگی میں ایسا چانس کروڑوں میں شاید ایک کو ملے۔
اپنی ایک منزل کا تعین کیجئے، پھر اسی سمت جدوجہد شروع کریں۔ مثال کے طور پہ ایک شخص کو شروع سے پتہ ہے کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے۔ تو وہ اسی سمت محنت کرے گا۔ ایک کو یہ ہی نہیں پتہ تو وہ انٹر میں پری میڈیکل پڑھے گا، گریجویشن میں کامرس شروع کر دے گا۔ اور آخر میں پبلک بس کے اندر جنتریاں بیچ رہا ہو گا۔ یا کریانے کی دکان بنا کر فخر سے بتائے گا میں نے 14 جماعتیں پڑھی ہیں۔ ( معذرت کے ساتھ کریانے کی دکان بھی اچھا کام ہے، صرف ایک بنا منزل کے جدوجہد کی مثال دی )۔
5: Being distracted | ارتکاز کا فقدان ہونا
آج کل کے سوشل میڈیا کے دور میں یہ مسئلہ ہم سب کے ساتھ آ رہا ہے۔ لیکن ایک حد سے بھی زیادہ اپنی سوچوں کو ہزاروں سمتوں میں منتشر کر دینا، ہمیں کبھی کسی منزل تک کامیابی سے نہیں پہنچنے دے گا۔ مثال کے طور پر آپ طالب علم ہیں۔ آپ کے زمانے انجنیئر یا ڈاکٹر یا کچھ بھی ایسا مقصد ہے۔ اس کے ساتھ آپ نے سوشل میڈیا پہ 4 اکاؤنٹ بنائے ہیں۔ یا ایک اکاؤنٹ پہ ہی چار گہرے ریلیشن شپ بنائے ہیں۔ آدھے سے زیادہ دن آپ کے دماغ میں یہی رہتا ہے کہ کونسے اکاؤنٹ پہ کونسا شوشا چھوڑنا ہے یا اس والی/والے کو بھی ٹائم دینا، دوسرے کو بھی، تیسرے کو بھی، بلا بلا ۔ تو آپ کا ارتکاز پڑھائی پہ کب ہو گا۔ یا آپ پڑھنے بیٹھے اور ادھر آپ کے موبائل فون پہ پنگ پنگ میسیجز اور نوٹیفکیشنز آ رہے ہیں۔ کیا آپ اپنی توجہ مرکوز کر پائیں گے؟ سب پہ مٹی ڈالیں۔ پہلے اپنے مقصد پہ دھیان دیں۔
اس موضوع پہ مزید بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ابھی میرے ساتھ بھی ارتکاز کا مسئلہ آ رہا ہے۔ اگر تحریر پسند آئے اور مفید لگی ہو، تو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ اور اگر آپ کے پاس بھی کوئی اچھی تحریر ہے تو ہمیں بھیجیں۔ علم پھیلانے سے بڑھتا ہے۔
مزید تازہ پوسٹس کیلئے نیچے گھنٹی کے نشان سے سبسکرائب کر لیں۔
ConversionConversion EmoticonEmoticon