ذہین لوگوں کی سات نشانیاں :
اللہ تعالٰی نے ہر انسان کو ایک الگ شخصیت سے نوازا ہے ۔اسی طرح کسی کو غریب بنایا۔ تو کسی کو بنایا۔ کوئی ہماری دنیا کے معیار کے حساب سے بہت خوبصورت کہلاتا ہے۔ تو کسی کو کہا جاتا ہے کہ عام سی صورت کا مالک ہے۔(نوٹ: میں نے دنیاوی معیار لکھا ہے۔ یعنی کہ ہم سطحی سوچ والے انسانوں کا خودساختہ معیار۔ ورنہ اللہ نے ہر انسان کی احسن تخلیق کی ہے)۔
یہ ہی فرق انسانی ذہن کے معاملے میں بھی ہے ۔ہم سے کچھ لوگوں کے پاس ایکسٹرا ذہانت پائی جاتی ہے۔ اور کچھ میری طرح بس گزارے لائق سمجھ بوجھ والے۔ سائنس نے نہ تو آج تک کوئی ایسا آلہ ایجاد کیا، جو سر میں ڈال کر کسی کی ذہانت ناپی تولی جا سکے۔ اور نہ ہی کوئی ایسا کلیہ ہے۔ کہ اتنے کلو کے سر والا زیادہ ذہین ہو گا۔اور اتنے کلو والا کم ذہن۔
اب یہ کیسے پتہ چلے کہ ہم ذہین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یا عام سے دماغ کے مالک ہیں ۔
اس کے لیے ویلے لوگوں نے، جن کو سیانہ سمجھا جاتا ہے۔ اور جن کا مشغلہ انسانوں کا مشاہدہ اور تحقیق کرنا ہے۔ نے اپنے مشاہدے سے ذہانت کی چند نشانیاں وضع کی ہیں۔ جو ایک حد تک درست بھی ہیں۔ بقول شاہدین کے۔
آپ بھی دیکھیں کہ اگر اس میں سے چند عادتیں بھی آپ میں پائی گئیں۔ تو خوش ہو جائیں۔ کہ آپ بھی بلاشبہ ذہین لوگوں کی لسٹ میں شمار ہوتے ہیں۔ سیانوں نے جو کہا ہے۔ تو ٹھیک ہی کہا ہو گا۔
![]() |
| Image: Pxhere |
بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں :1
جو لوگ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہوتے ہیں۔ ان میں ذہانت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ نہ تو جنیاتی ہوتا ہے۔ نہ ہی کوئی فکس کلیہ ہے۔ لیکن مشاہدہ کہتا ہے۔ کہ اس کی وجہ یہ ہے۔ بڑے بچے کو شروع میں ماں باپ کا زیادہ وقت اور توجہ ملتی ہے۔ پہلے بچے کی دفعہ ماں باپ زیادہ خوش اور سرشار ہوتے ہیں۔ اس کو زیادہ وقت دیتے ہیں زیادہ کھلونے لا کر دیتے ہیں۔ لہذا زیادہ توجہ ملنے سے بچے کی کم عمری میں گروتھ زیادہ ہونے لگتی ہے۔ خود اعتمادی میں بھی جلدی اضافہ ہوتا ہے۔
اسی طرح انہیں اکثر چھوٹے بہن بھائیوں کا ٹیوٹر بنا دیا جاتا ہے۔ وہ انہیں پڑھانے کے لیے نئے نئے طریقے سوچتے ہیں۔ اس طرح انکا علم، سیکھنے کا رجحان اور سوچ وسیع ہوجاتی ہے ۔
سستی: کاہل پسند لوگ:2
ذہین لوگ عموما سست واقع ہوتے ہیں۔ وہ عام لوگوں کی نسبت زیادہ سوچتے ہیں۔ اسی وجہ سے انکا دماغ تھک جاتا یے۔ اور وہ سستی کا شکار رہتے ہیں۔ اگر ان کے سامنے کوئی مسئلہ رکھا جائے۔ تو ان کا دماغ متبادل تین چار حل ڈھونڈ نکالے گا۔
ان لوگوں کے دماغ میں کئی آئڈیاز چل رہے ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنے خیالوں میں گم رہتے ہیں۔ اس لیے عام لوگوں کی نسبت کم ایکٹو رہ پاتے ہیں ۔سا ئنسی تحقیق کے مطابق جو کھانا ہم کھاتے ہیں۔ اس کی انرجی کا بیس فیصد ہمارا دماغ خرچ کرتا ہے۔ اور ذہین لوگوں کا دماغ عام انسانوں کی نسبت تیزی سے چلتا ہے۔ کیونکہ وہ زیادہ توجہ سے کام کرتے ہیں۔ اس لیے جلدی تھک جاتے ہیں اس لئے سستی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ایک بات نوٹ کیجئے گا۔ کہ یہ لوگ اپنے کام کو سر انجام دینے کے لیے اکثر شارٹ کٹ تلاش کرتے ہیں۔ ہم اسے کام چوری سمجھتے ہیں۔ لیکن اصل میں یہ ان کے تیز دماغ کی سرگرمی ہوتی ہے۔
دیر سے سونا :3
یہ لوگ دیر سے سوتے ہیں۔ اور سونے سے پہلے بہت سوچتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے۔ کہ جو لوگ دیر سے سوتے ہیں۔ وہ اکثر زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ان کا آئی کیو لیول جلدی سونے والوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ لیٹ نائٹ کال پیکیجز والوں کی بات نہیں ہو رہی۔ عادتا لیٹ سونے والے سوچوں میں کھو جاتے ہیں۔ اور دوسرا انہیں نالج کی کھوج ہوتی ہے۔کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ یوٹیوب پر وڈیوز دیکھیں گے۔ بلاگ پڑھیں گے۔غرض کچھ نہ کچھ تلاش کرتے رہتے ہیں۔
دوست کم بناتے ہیں :تنہائی پسند:4
ذہین لوگ بہت کم دوست بنا پاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے۔ کہ بات چیت کے لیے جو موضوع انہیں پسند ہوتے ہیں۔ عام لوگوں کی پسند و سوچ اس سے مختلف ہوتی ہے۔ ان کو اپنے جیسے دماغ اور سوچ والوں کی صحبت ہی پسند آتی ہے۔ یہ لوگ عام انسانوں سے بات چیت کر کے جلدی بور ہوجاتے ہیں۔ یہ بات تو نیگیٹو ہے۔ لیکن ذہین لوگ دوسروں سے بہت کم میل ملاپ رکھتے ہیں۔ ان کا دماغ دوسروں سے الگ سوچتا ہے۔ وہ باتوں سے بھی کچھ نہ کچھ الگ کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس لئے کم سوشل اور کم گو ہو جاتے ہیں۔
اپنے آپ سے باتیں کرنا :خود کلامی:5
ویسے تو خود سے باتیں کرنا عجیب لگتا ہے۔ اور جو خود سے باتیں کرے۔ اسے ہم پاگل، خبطی یا سینٹی کا لقب دیتے ہیں۔ لیکن سائینس کہتی ہے۔کہ جینئیس لوگ خود سے باتیں کرتے ہیں۔ وہ گہرائی میں سوچتے ہیں۔ اور جس چیز کا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں۔ خود سے اسکی رائے لے رہے ہوتے ہیں ۔ اپنے ہی خیالات کا تجزیہ اور ان خیالات کے بارے میں خود سے رائے لینے لگتے ہیں۔ کیونکہ ان کا تیز دماغ کسی دوسرے سے رائے لینے تک کا انتظار پسند نہیں کرتا۔ لہذا وہ لوگ خودکلامی کرتے نظر آتے ہیں۔
نئے خیالات: پنگے بازی کا شوق:6
ان کا دل نئی نئی جگہوں پر جانے انہیں دریافت کرنے کا جاننے کا شوق ہوتا ہے۔ جینئس لوگ کسی نہ کسی نئی جگہ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اسی طرح انہیں روز کچھ نیا اچھوتا کرنا ہوتا ہے۔ ایک جیسی روٹین اور کاموں سے ذہین انسان بوریت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھول جانا:7
جو چیزیں اہم نہیں ہوتیں، ذہین لوگ انکے بارے میں اکثر بھول جاتے ہیں۔ مثلا ٹی وی کا ریموٹ رکھ کے بھول جائیں گے۔ عموما چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھول جانے والوں کو بدھو بھلکڑ اور بیوقوف کہا جاتا ہے۔ مگر مبارک ہو۔ اگر آپ بھی ایسا کرتے ہیں۔ تو سائینس کہتی ہے۔ کہ یہ ذہین ہونے کی علامت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے۔ کہ ذہین لوگوں کے ذہن میں ایک وقت میں بہت سے خیالات گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ اور ان کا دماغ خود بخود ہی غیر ضروری باتوں کو سائیڈ پر کر
کے نئے خیالات کے لیے جگہ بناتا جاتا ہے ۔
یہ توسیانوں کی تحقیق و مشاہدے کے مطابق ذہین لوگوں کی چند نشانیاں ہیں۔ لیکنان کے علاوہ ذہانت کی ایک نئی نشانی بھی دریافت ہوئی ہے۔ اور وی یہ کہ جو لوگ اس چھوٹے سے آرٹیکل کو پڑھنے کے بعد سوشل میڈیا پہ شیئر کریں۔ وہ اوپر بیان کیے گئے لوگوں سے بھی زیادہ ذہین تصور کیے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کو علم تقسیم کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ اور علم کو جتنا تقسیم کیا جائے۔ اتنا بڑھتا ہے۔ اور ذہانت کا ایک بنیادی جزو علم بھی ہے۔ لہذا نیچے دیے گئے سوشل میڈیا بٹن پہ کلک کر کے شیئر کر دیں۔
Written By Ayesha Malik:
Also Read: Things to do Before Sleep.

ConversionConversion EmoticonEmoticon