Chechnya: Facts
آپ میں سے بہت سے لوگوں نے شاید یہ نام تو ضرور سنا ہو گا۔ لیکن نام سے آگے کی تفصیل بہت کم لوگ جانتے ہوں گے۔ اس کے علاوہ آپ نے کوہ قاف کا ذکر بھی بچپن کی کہانیوں میں پڑھا ہو گا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کوہ قاف دراصل ہے کہاں؟؟
کیا یہ واقع کوئی حقیقی مقام ہے۔ یا صرف دیومالائی کہانیوں کا مقام؟
کوہ قاف واقع ہی حقیقی مقام ہے۔ اور یہ چیچنیا میں واقع ہے۔
چیچنیا؛
چیچنیا سابق سوویت یونین کا حصہ، اور موجودہ آزاد ملک ہے۔ جسے چیچن ریپبلک بھی کہا جاتا ہے۔ چیچنیا کا لفظی مطلب ہے "بہادر شیرنی"۔ یہ ملک شمالی قذقاف کے مشرق ، اور مشرقی یورپ کے جنوب میں واقع ہے۔
یہ ایک چھوٹا سا اسلامی خطہ ہے۔ اور برسوں سے آزادی کی جنگ میں مصروف تھا۔ یہ ملک ہر طرف سے روس کے علاقوں میں گھرا ہوا ہے۔ اور اس کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ بحریہ کیسپین سے ملتا ہے۔
چیچنیا کا دارلحکومت گروزنی ہے۔ جس کا لفظی مطلب ہے "خوفناک"۔ اس ملک کی قومی زبان چیچین ہے۔ اس ملک میں روسی زبان کے علاوہ 50 سے زائد علاقائی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ یہ نقش قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو نیلی آنکھوں والے، پہاڑوں میں رہتے ہیں۔ بھیڑیں پالتے ہیں۔ اور پنیر کھاتے ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش ، انڈے گھوڑے اور بھیڑیں ہیں۔ چیچنیا کے موجودہ صدر کا نام رمضان کادریوو ہے۔
چیچنیا کے قانون کے مطابق ان کا صدر چار سال کیلئے چنا جاتا ہے۔ اس خوبصورت ملک کی کل آبادی 14 لاکھ 36 ہزار ہے۔ سب سے بڑی آبادی والا شہر گروزنی ہے۔ جس کی آبادی 2 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
اس ملک میں پچانوے فیصد مسلمان، جبکہ پانچ فیصد دیگر مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ یہاں پہ اسلام عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی معیت میں پہنچا۔ اسی وجہ سے روس کی کئی ریاستوں میں کافی مسلمان آباد ہیں۔ چیچنیا میں امام شافی علیہ السلام کے ماننے والے سنی مسلمان بستے ہیں۔
وقت کے حساب سے یہ ملک پاکستان سے دو گھنٹے پیچھے ہے۔ اتنے سال جنگ میں مصروف رہنے کے باوجود دلچسپ بات یہ ہے۔ کہ اس ملک کی کرنسی 1.81 پاکستانی روپوں کے برابر ہے ۔
اس ملک میں پانچ ہزار میٹر ست بھی اونچے پہاڑ اور گھنے جنگلات ہیں۔ اس خوبصورت ملک میں پانی کے چشموں کی بہتات ہے۔ جہاں ہر وقت سیاحوں کی آمدورفت رہتی ہے۔
اونچے پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے یہاں موسم خوشگوار رہتا ہے۔ مقامی ذرائع معاش کے علاوہ سیاحت بھی اس ملک کی اکانومی کو ایک بڑی مدد فراہم کرتی ہے۔
اس کے علاوہ چیچنیا کی معیشت میں کلیدی کردار آئل ریفائنریز کا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق چیچنیا میں 15 ہزار سے زائد چھوٹی بڑی آئل ریفائنریز ہیں۔ جو معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کے مماثل ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے۔ کہ اس ملک کو تسلط میں رکھنے کیلئے اتنا خون بہایا گیا۔
ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ سے، دارلحکومت گروزنی تک باقاعدگی سے پروازیں جاتی ہیں ۔ لیکن آپ ماسکو سے بذریعہ ریل بھی چیچنیا جا سکتے ہیں۔
ایک بات یاد رکھنے والی ہے۔ کہ اگر چیچنیا کی سیر کو جانا چاہتے ہیں۔ تو آپ کو روسی ویزا حاصل کرنا ہو گا۔ کیونکہ یہ ملک اب تک روسی فیڈریشن کا حصہ ہے۔ چیچنیا میں ہر سال کے ابتدائی ایام میں، ساک کے قیام کے برابر اجتماعی شادیاں کی جاتی ہیں ۔ جو کہ پوری دنیا میں ایک منفرد انداز رکھتی ہیں۔ آپ کنوارے ہیں، تو کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ چیچن لڑکیوں کو دنیا کی خوبصورت ترین لڑکیاں تصور کیا جاتا ہے۔
شادیاں والدین کی مرضی سے اپنے قبیلوں میں کی جاتی ہیں۔ شادی کے بعد دلہن اپنے سسرال اور لڑکا اپنے سسرال سے میل ملاپ رکھنے سے بچتا ہے۔ پہلے بچے کی پیدائش کے بعد میل ملاپ نارمل سطح پر آ جاتا ہے۔
ساتویں صدی میں، عربوں نے چچنیا کو اپنی خلافت میں شامل کر لیا تھا۔ 13ویں صدی میں منگول حملہ آور ہوئے، اور تباہی مچائی۔ چودھویں صدی کے اواخر میں امیر تیمور لنگ نے اس ملک کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔
اٹھارویں صدی میں روس اس ملک پہ حملہ آور ہوا۔ جب عیسائی ملک جارجیا نے روس سے اتحاد کر لیا۔ لہذا چیچنیا ایک طرف سے جارجیا اور ایک طرف سے روس کے گھیرے میں آ گیا۔ اور جنگ ہار بیٹھا۔
مختلف ادوار میں اس قوم پہ ظلم و ستم برپا کیے جاتے رہے۔ 1991 میں جب سوویت یونین شکست و ریخت کے عمل سے گزر رہا تھا۔ چیچن جنرل جوہر داؤد نے اپنی خودمختار حکومت کا اعلان کر دیا۔ اس وقت چونکہ روس اپنے داخلی مسائل میں بری طرح الجھا ہوا تھا۔ لہذا اس نے جنرل داؤد کے خلاف کوئی عملی کاروائی نہیں کی۔ تاہم بعد میں جب اس کے حالات کنٹرول میں آ گئے۔ تو 1994 میں روس نے اپنی فوج چیچنیا میں داخل کر دی۔ یوں خوفناک خونریزی کا دور شروع ہوا۔ 3 سال۔ تک جنگ کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اپریل 1996 میں جنرل داؤد کو شہید کیا گیا۔
اس کے بعد ایک سمجھوتے کے تحت چیچنیا میں انتخابات ہوئے۔ جن میں ارسلان مسخادوف نے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کا مطمع نظر روسی فیڈریشن سے مکمل آزادی ہے۔
لیکن چونکہ وہ جمہوری طریقے سے برسر اقتدار آئے تھے۔ اسلیے انہوں نے روس کے خلاف کوئی باقاعدہ جانباز کاروائی نہیں کی۔ لیکن اب بھی کبھی کبھار اکا دکا کاروائیاں ہوتی رہتی ہیں۔
سعودی عرب درپردہ چیچن جانبازوں کو ہر طرح کی سپورٹ فراہم کرتا رہتا ہے۔ اور ان کو بوقت ضرورت روس کو سیاسی طور پہ بلیک میل کرنے کیلئے بھی استعمال کرتا ہے۔
چیچن جھنڈے میں تین رنگ ہیں۔ سفید رنگ امن کی علامت ہے۔ سرخ رنگ شہدا کی یاد دلاتا ہے۔ اور سبز رنگ اسلام کا غلبہ ظاہر کرتا ہے۔
روس کی سب سے بڑی مسخد، جو استنبول کی مسجد کے مشابہ ہے۔ وہ چیچنیا کے دارلحکومت گروزنی میں ہی ہے۔ اس مسجد کو قلب چیچنیا کہا جاتا ہے۔ مسجد کا کل رقبہ 35 ایکڑ ہے۔ اور یہاں بیک وقت 10 ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔
کوہ قاف/ CAUCASUS MOUNTAIN
کوہ قاف یا پرستان بحیرہ اسود اور بحیرہ کیسپین کے درمیان ایک پہاڑی سلسلہ ہے۔ جو ایشیا اور یورپ کو جدا کرتا ہے۔ اب یہ پہاڑی سلسلہ چیچنیا میں واقع ہے۔ اس پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوڑی 18506 فٹ اونچی ہے۔ کوہ قاف کا پہاڑی سلسلہ کافی طویل ہے اس لیے یہ واضح نہیں ہے۔ کہ کوہ قاف یورپ کا حصہ کہلاتا ہے یا ایشیا کا۔ یہ سلسلہ 1100 کلومیٹر لمبا اور 160 کلومیٹر چوڑا ہے۔
شمالی کوہ قاف میں بہت زیادہ گلیشیئر موجود ہیں۔ اور موسم بہار میں جب برف پگھلنے لگتی ہے۔ تو وہ مناظر بےحد حسین ہوتے ہیں۔
پاکستان بھارت اور ایران میں کوہ قاف سے متعلق پریوں کی کہانیاں اور جنات کے قصے نسلوں سے مشہور ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ ویران جگہیں کبھی جنات کا مسکن رہی ہوں۔ لیکن اب یہاں آنے والی سیاحوں کی تعداد دیکھ کر زمینی پریوں کی بہار ضرور نظر آتی ہے۔
ConversionConversion EmoticonEmoticon