Things To Do Before Sleep | Brain Power In Urdu

صرف سمجھنے کیلئے،  اگر ہم اپنے دماغ کو دو حصوں میں تقسیم کریں۔ تو ہم ایسے نام دیں گے۔  ( شعور،  لاشعور)۔
Conscious Mind
Subconscious Mind



دماغ کے شعور کو آپ ایسا سمجھ لیں ل، جیسی ایک مینوئیل کار ہوتی ہے۔ جس کا گیئر، کلچ اور سب کچھ ہم خود لگاتے ہیں۔ مطلب کہ جیسا راستہ ویسا گیئر، وغیرہ۔  اور لاشعور کو آپ ایک آٹومیٹک کار سمجھ لیں ۔ جو ہوتی تو آپ کی ہی ملکیت ہے۔ اور اس کا زیادہ کنٹرول آپ کے پاس ہوتا ہے۔ لیکن اس کے کچھ اہم فنکشن خودکار ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پہ آپ نے ایک بار ڈرائیو میں ڈال دیا۔ پھر وہ خود اپنے گیئر تبدیل کرے گی۔ راستے کے حساب سے اپنی طاقت اور انرجی کا استعمال کرے گی۔

لاشعور ،ہماری زندگی کی ایسی کتاب کی مانند ہوتا ہے۔ جس میں ہمارے سب آئیڈیاز،  سوچیں، اور عقائد محفوظ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پہ ہم مسلمان ہیں۔ اللہ ہم کو توفیق دے ہم بہت سارے شاید پوری نمازیں بھی ادا نہیں کرتے ہوں گے۔ اور بہت سارے ایسے کام جو اسلام کے حکم کے خلاف ہیں۔ ہم کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ہمارے شعور کے ہاتھ میں ہے،  نیکی کرنی یا بدی۔  لیکن اگر کوئی ہمارے دین پہ، مذہب کے خلاف بات کرے۔ یا ہم کو اسلام سے بدل کر دوسرے دین کی طرف جانے کا کہے۔ تو پاشعور میں موجود عقیدہ پوری طاقت سے ابھر کر سامنے آ جائے گا۔ کیونکہ شعوری احکامات پورے کرنے میں تو ہم شاید اتنے مظبوط نہ ہوں۔ لیکن جو کچھ لاشعور میں ہے۔ وہ بہت زیادہ طاقتور ہے۔
لاشعور ہمیشہ بیک گراؤنڈ میں متحرک رہتا ہے۔ اور یہ جذبات، احساسات کی بنیاد پہ فیصلے کرتا ہے۔ اور ان پہ ہمارا براہ راست کنٹرول نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ لاشعور ہمیشہ، 24 گھنٹے کام کرتا رہتا ہے۔ جب کہ ہمارا شعور ہمارے سوتے وقت کام کرنا بند کر دیتا ہے۔


آپ جانتے ہیں۔ کہ ہمارے جسم کا ہر فنکشن ہمارے دماغ کے زیراثر ہے۔ پورے جسم کے تمام فنکشنز کو دماغ ہی کنٹرول کرتا ہے۔ ہدایات دیتا ہے۔ اس حساب سے،  دماغ کا لاشعور وہ کام سرانجام دیتا ہے۔ جنہیں ہم کو بار بار یا لگاتار کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے دل کی دھڑکن، سانس لینا اور دوسرے ایسے نان سٹاپ فنکشنز۔ نیند میں ہمارا شعور تو سویا ہوتا ہے۔ وہ سانس لینے اور دل کی دھڑکن جیسے عوامل کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ لہذا یہ کام لاشعور کے زیر اثر ہے ۔

لاشعور کی ایک خاص خوبی یہ بھی ہے۔ کہ جو کام لاشعور سرانجام دیتا ہے۔ اس میں کم سے کم انرجی استعمال ہوتی ہے۔  مثال کے طور پر آپ ابھی ایک تجربہ کریں۔ اس جملے کو پڑھنے تک آپ کا سانس لاشعور کے کنٹرول میں تھا۔ اب آپ زرا شعور کی ہدایت پہ سانس لیں۔ خود اپنے نتھنوں کو سانس اندر کھینچنے کی کمانڈ دیں۔  دیکھیں آپ کتنے سیکنڈ یہ عمل دہرا سکتے ہیں۔ یا کتنے منٹ۔
آپ 20، 30 ،40 بار سانس کو کھینچ کر تھک جائیں گے۔ کیونکہ اب آپ یہ فنکشن اپنے شعور کی ہدایت پہ کر رہے ہیں۔ آپ کی زیادہ انرجی استعمال ہو رہی ہے۔  لہذا اس سانس لینے کے عمل کو لاشعور کے زیراثر رہنے دیں۔ اور آگے مزید پڑھیں۔

اوپر والی مثال سے آپ کو ایک بات تو سمجھ آ گئی ہو گی کہ لاشعور،  شعور سے زیادہ طاقتور اور تیز ہے۔  آپ میں سے کوئی فوج میں رہا ہے ؟؟ یا کوئی ایسی خاتون جو روز پیاز ٹماٹر کاٹتی ہو، کھانا پکانے کیلئے ؟ چلیں اگر آپ فوج میں نہیں رہے، تو بھی زیادہ تر نے فوج کی ٹریننگ کے نظارے ضرور دیکھے ہوں گے۔  فوج میں ٹریننگ دیتے وقت ایک ہی عمل بار بار کرایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پہ پریڈ سکھاتے وقت صبح سے شام تک پاؤں زمین پہ مارو۔ یا بازو چلاتے رہو۔ یا اگر مارشل آرٹس کی ٹریننگ ہو تو روز 1000 بار مکے اور ککس کی پریکٹس۔
مکا مارنے کا طریقہ تو آپ نے 2 گھنٹوں میں سیکھ لیا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہفتوں مہینوں تک وہی عمل بار بار اور ہزار بار ہوا میں دہرانے کا کہا جاتا ہے ؟؟؟   اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ عمل آپ کے لاشعور کا حصہ بن جائے۔ کیونکہ لاشعور، شعور سے زیادہ طاقتور ہے۔  جتنی بار زیادہ پریکٹس ہوتی جائے گی۔ وہ عمل لاشعور کے اندر اتنا سرایت کرتا جائے گا۔ اس سے وقت ضرورت آپ اس عمل کو کم طاقت کے ساتھ زیادہ پراثر طریقے سے کر سکیں گے۔  یہی فوجی ٹریننگ میں ایک عمل بار بار کرانے کی وجہ ہے۔

بہت سے لوگ اس بات پہ یقین رکھتے ہیں۔ کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں جو کام کرتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر ہم شعوری طور پہ لاجک سے کرتے ہیں۔  لیکن یہ بات سچ نہیں ہے۔
مثال کے طور پہ جب ہماری سیلری آتی یے۔ تو شعور اور لاجک تو یہ کہتی ہے۔ کہ ہم اس میں تھوڑا سا بچائیں۔ تھوڑا سا اپنی صحت پہ خرچ کریں۔ اور باقی بھی حساب سے دوسرے اخراجات پہ لگائیں۔ لیکن اصل میں ہوتا کیا ہے ؟؟ جیسے ہی سیلری آتی ہے۔ ہمارا ہاتھ کھلا ہو جاتا ہے۔ شروع کے دنوں ہم لاشعوری طور پہ ہی زیادہ کھل کر خرچ کرتے ہیں۔ اور مہینے کی بیس کو کنگال ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے۔ کہ ہمارے مستقل،  کامیابی کا فیصلہ وہ چیزیں کرتی ہیں۔ جو ہمارے لاشعور میں محفوظ ہوں۔ مثال کے طور پہ بچت، محنتی فطرت، اور عاجزی، ہنر اور بہت کچھ۔ یا اس کے مخالف، فضول خرچی، بے پرواہی،  غصہ، یا کوئی اور برا کام۔

اچھا اگر اتنا سارا کام لاشعور کرتا ہے۔ تو شعور کیا کرتا ہے ؟  

شعور کا کام لاشعور کو سپلائی کرنے کا ہے۔ اس کی مثال ایک چوکیدار کی سی ہے۔ جو چیزوں کو لاشعور کی طرف جانے کا راستہ دکھاتا ہے۔ یا ان کو نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ 

اب آتے ہیں اصل پوائنٹ کی طرف۔ کیونکہ میرا موضوع لاشعور و شعور کی تشریح نہیں کچھ اور ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگوں کو زندگی میں بہت کچھ کرنا ہے۔  صحت مند ہونا ہے۔ اچھے ریلیشن بنانے ہیں۔ اچھے پیسے کمانے ہیں۔ اور بہت کچھ۔ اور اس کیلئے ہمیں بہت سارے ایکشن لینے ہوتے ہیں۔ لیکن ہم وہ ایکشن نہی لے پاتے۔ کیونکہ وہ باتیں ہمارے لاشعور میں اچھی طرح سے بیٹھی نہیں ہوتیں۔ 
مثال کے طور پہ آپ اشفاق احمد مرحوم کا کوئی پروگرام زاویہ دیکھتے ہو۔ یا کسی اور موٹیویشنل لٹریچر کو سنتے یا پڑھتے ہو۔ اور موٹیویٹ ہو جاتے ہو۔ اور فیصلہ کرتے ہو۔ کہ بس بہت مستی ہو گئی۔ کل سے میں جلدی اٹھوں گا۔ اور اپنے مقصد پہ محنت کروں گا۔ لیکن دوسرے دن جب الارم بجتا ہے۔ تو آپ اسے بند کر کے دوبارہ سو جاتے ہو۔ کیونکہ آپ کا لاشعور کہتا ہے۔ سویا رہ۔ کل کر لیں گے۔   ایسے ہی بہت سی چیزیں جو ہم کرتے ہیں۔ یا نہیں کر پاتے۔ وہ سب لاشعور دماغ کا کارنامہ ہوتا ہے۔ 


اب  ہمیں کیا کرنا چاہیے۔

 ہمیں اپنے لاشعور کو ری پروگرام کرنا ہو گا۔ اس کے اندر جو کاٹھ کباڑ بھرا ہے۔ جو ہمیں صحیح کام نہیں کرنے دے رہا۔ اسے صحیح انفارمیشن سے ری پلیس کرنا ہو گا۔ بدلنا ہو گا۔

اور یہ سب ہو گا دہرانے سے۔  بالکل فوجی ٹریننگ کی طرح۔ مطلب کہ ایسے کام شعوری طور پہ بار بار کرو، جو لاشعور میں جا کر محفوظ ہوں۔ اچھی کتابیں پڑھیں،  لیکچرز دیکھیں۔ اور سنیں ۔ اور آپ کے مقصد سے متعلق مفید مواد اپنے شعور کے ذریعے بار بار کر کے لاشعور تک پہنچائیں۔
بےشک آپ کے پاس وہ معلومات پہلے سے ہوں۔ لیکن ان کو پھر دوبارہ پڑھو۔ اپنے جیسے گول رکھنے والے لوگوں کے ساتھ رہو۔ ان سے ڈسکس کرو۔ بالکل ایسے ہی۔ جیسے کمبائن سٹڈی ہوتی ہے۔ 

جتنی زیادی باتیں دہرائی جائیں گی  اچھے آئیڈیاز ، سوچیں۔ باتیں۔ اتنا زیادہ مفید مواد آپ کے لاشعور میں بیٹھے گا۔ آپ کی خواہشیں آپ کے لاشعور میں اتنے اچھے سے بیٹھ جائیں۔ کہ آپ ان پہ آسانی سے ایکشن لے سکو۔۔
اس کے علاوہ لاشعور کو تربیت دینے کی چند اور ٹیکنییکس ہیں۔ جن  کا مختصر ذکر کرتے ہیں۔

Visualisation:

تخیل، فرض کرنا، بظاہر یہ ایک عام فضول سا کام لگتا ہو، شیخ چلی کی طرح۔ لیکن اس کا ہماری کامیابی میں بہت بڑا کردار ہے۔ مثال کے طور پہ، آپ میڈیکل کے سٹوڈنٹ ہو۔ یا میڈیکل کالج میں جانے والے ہو۔ اگر آپ میڈیکل کیلئے پڑھتے وقت یہ نہ سوچیں کہ میں ڈاکٹر بن جاؤں گا۔ تو کیا آپ میڈیکل کی تعلیم اچھی طرح جاری رکھ سکو گے؟  99۔9 پرسنٹ میڈیکل سٹوڈنٹس خود کو ڈاکٹر کے روپ میں دیکھنا پہلے دن سے ہی شروع کر دیتے ہیں۔ ابھی چار پانچ سال کی تعلیم باقی ہوتی ہے۔ لیکن وہ خود کو ڈاکٹر کے روپ میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کا تخیل شیخ چلی جیسا ہو جاتا ہے۔ اور یہی تخیل ان کو زیادہ محنت کرنے اور کامیاب ہونے پہ اکساتا ہے۔  کیونکہ اپنی منزل اور کامیابی کا تخیل کرنا ایسا عمل ہے۔ جو آپ کے لاشعور کو اس منزل کی طرف محنت کرنے پہ اکساتا ہے۔ پش کرتا ہے۔ جب آپ اپنے آپ کو ڈاکٹر،  انجنیئر یا جو بھی امیجن کرتے ہو۔ تو لاشعور خودبخود اسی سمت کام کرنے لگتا ہے۔ 
لہذا زیادہ نہیں تو 80 پرسنٹ شیخ چلی بن جانے میں آپ کا فائدہ ہے۔ 

Baudouin Technique

چارلس بدائن ایک فرانسیسی ماہر نفسیات تھا۔ جس نے اس تکنیک کو ایجاد کیا۔ اس تیکنیک کے مطابق جب آپ بہت زیادہ تھکے ہو، یا نیند میں ہو، مطلب کہ سونے کو بےحال ہوئے ہو۔ تو یہ وقت لاشعور میں باتیں بٹھانے کا سب سے بہترین وقت ہوتا ہے۔ کیونکہ تھکن کی وجہ سے ہمارا شعور اتنا بے حال ہوتا ہے۔ کہ زیادہ باتیں سیدھی لا شعور میں جا بیٹھ جاتی ہیں۔ مثال کے طور پہ اگر آپ رات کو سونے سے پہلے کوئی ڈراؤنی فلم دیکھو۔ تو بہت چانس ہے کہ سوتے میں آپ کو ڈراؤنے خواب آئیں۔ لہذا جب بھی آپ ایسی نیند اور تھکن سے بےحال ہو۔ تو اپنے گول کے بارے میں سوچو۔ آپ کا لاشعور ان باتوں کو زیادہ جلدی اپنے اندر محفوظ کرے گا۔

Thank You.

شکر الحمداللہ على كل حال. 
 ہاں جی۔ جو کچھ آپ کے پاس ہے۔ کم ہے یا زیادہ ہے۔ اس پہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہیں۔ ہمارے ایمان کے مطابق اللہ راضی ہو کر کامیابی دیتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اس بات کو لادین، غیرمسلم سائنسی لحاظ سے بھی تسلیم کر چکے۔ وہ اس طرح کہ جب آپ اپنے حال پہ شاکر رہو گے۔ تو آپ کا دل و دماغ اطمینان میں رہے گا۔ اس میں آسودگی رہے گی۔ آپ کی فطرت میں جلد بازی نہیں ہو گی۔ اور آپ غمگین نہیں رہو گے کہ "ہائے مجھے یہ نہ ملا،  وہ کیوں نہیں ملا"  ایک غمگین دل اور پریشان دماغ کبھی اچھی طرح کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔ جبکہ ایک مطمئن پرسکون دماغ آپ کی صلاحیتوں کو اور زیادہ بڑھائے گا۔ آپ کا لاشعور بجائے آپ کے اس دکھ ناشکرے پن سے لڑنے کے، یہی انرجی آپ کی منزل کی طرف لگائے گا۔ اور کامیابی حاصل کرنے کے امکانات زیادہ ہو جائیں گے۔ شکر کرتے رہیں۔ آپ آسودہ،  مطمئن خوش،  اور کامیاب رپیں گے۔ 

Affirmation Method: خود کو باور کرانا۔

 "میں بہت مشکل حالات میں ہوں۔ لیکن میں مایوس نہیں ہوں۔ میں نے ان حالات ہو بدلنا ہے۔ ایک دن میں ضرور اپنے حالات بدلوں گا۔" 
یہ میرا رونا دھونا نہیں ، ایک مثال ہے خود کو باور کرانے کی۔ آپ خود کو باور کراتے رہیں۔ کہ ہاں میں نے اس منزل پہ پہنچنا ہے۔ ضرور پہنچنا ہے۔ بجائے اس کے کہ آپ مایوس ہو کر کہنا شروع کر دو۔ اف یہ مجھ سے نہیں ہو گا۔  خود کو بار بار باور کرانا ہمارے لاشعور ہو اسی سمت متحرک کرتا ہے۔ جس سمت ہم خود کو باور کرا رہے ہوں۔ مایوسی چھوڑیں اور امیر تیمور لنگ کی طرح ارادہ مظبوط کریں۔ 

مزید پڑھیں: 30 سیکنڈ میں لوگوں کا ساتھ کیسے جیتیں۔

Previous
Next Post »