اگر پاکستان میں رہتے ہیں، لیکن آپ نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات نہیں دیکھے۔ تو سمجھیں آپ محروم رہ گئے۔ پاکستان کا شمالی علاقے بہت دلکش ہیں۔ اس بات کا اندازہ آپ اسی بات سے لگا لیں کہ، بہت سارے یورپین و امریکن سیاحوں نے ان علاقوں کے وزٹ کے بعد ان کو سوئٹزر لینڈ بھی زیادہ خوبصورت قرار دیا ہے۔ گھنے جنگلات اور دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں پہ پھیلے ہوئے علاقوں کو، خوبصورت بنانے میں گلیشیئرز کا بھی کافی ہاتھ ہے۔
یہاں دنیا کے تین مشہورترین پہاڑی سلسلے، کوہ ہمالیہ، کوہ قراقرم اور کوہ ہندوکش ملتے ہیں۔ ان علاقوں میں برف سے ڈھکی اونچی چوٹیاں، پہاڑوں کے بیچ میں گہری اور سرسبز وادیاں اور چمکتے پانی والی جھیلیں اپنا رنگ دکھاتی ہیں۔
گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے عرصہ میں، ان علاقوں کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے بین الاقوامی سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ لیکن سلام پاکستانی فورسز کو، کہ جن کی قربانیوں کی وجہ سے ان علاقوں کا امن اب مکمل طور پر بحال ہو چکا۔ پاکستانی و غیرملکی سیاح ایک بر پھر سے ان علاقوں کی سیر کیلئے آنا شروع ہو چکے ہیں۔
اب سوال یہ ہے، کہ شمالی علاقے تو کافی وسیع ہیں۔ ان کا رقبہ 2700 مربع میل سے بھی زیادہ ہے۔ تو کس خاص جگہ کو وزٹ کیا جائے۔ ذیل میں ہم 5 خوبصورت ترین علاقوں کا مختصرا ذکر کریں گے۔
یہاں دنیا کے تین مشہورترین پہاڑی سلسلے، کوہ ہمالیہ، کوہ قراقرم اور کوہ ہندوکش ملتے ہیں۔ ان علاقوں میں برف سے ڈھکی اونچی چوٹیاں، پہاڑوں کے بیچ میں گہری اور سرسبز وادیاں اور چمکتے پانی والی جھیلیں اپنا رنگ دکھاتی ہیں۔
گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے عرصہ میں، ان علاقوں کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے بین الاقوامی سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ لیکن سلام پاکستانی فورسز کو، کہ جن کی قربانیوں کی وجہ سے ان علاقوں کا امن اب مکمل طور پر بحال ہو چکا۔ پاکستانی و غیرملکی سیاح ایک بر پھر سے ان علاقوں کی سیر کیلئے آنا شروع ہو چکے ہیں۔
اب سوال یہ ہے، کہ شمالی علاقے تو کافی وسیع ہیں۔ ان کا رقبہ 2700 مربع میل سے بھی زیادہ ہے۔ تو کس خاص جگہ کو وزٹ کیا جائے۔ ذیل میں ہم 5 خوبصورت ترین علاقوں کا مختصرا ذکر کریں گے۔
SAWAT | سوات
سوات کی سرزمین نہایت دلکش پہاڑی علاقے اور تاریخی اعتبار سے اہم مقامات کہ وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ سوات میں بلند چوٹیوں والے پہاڑ، تیز ندیاں، سرسبز وادیاں، آبشاریں ، برفانی جھیلیں، پھولوں کے باغات ، یہ سب وہ عظیم نعمتیں ہیں۔ جو سوات کی سرزمین کو قدرت کی طرف سے حاصل ہوئی ہیں۔ تقریبا 5900 میٹر بلند پہاڑی سلسلے اور سرسبز سرزمین اپنی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔
سوات کی تہذیب 3500 سال پرانی ہے۔ اور آثار قدیمہ کی نشانیاں، پرانی غاروں سے لے کر، آریا اور بدھ مت دور کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ یہاں پہ بدھ مت اور ہندو مت کی پرانی عبادت گاہیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ سوات کی اکثر وادیاں حملہ آوروں کی نظر ہوتی رہیں۔ اور یہاں تلوار، ڈھال اور جنگی گھوڑے اپنا کردار ادا کرتے رہے۔
سوات ہی کی سرزمین پہ دنیا کا مشہور ترین سپہ سالار، سکندر اعظم، محمود غزنوی اور مغل بادشاہ بابر اور اکبر اعظم نے جنگیں لڑیں۔ سوات کے عجائب گھر جو سیدو شریف میں ہیں۔ گندھار دور کی یاد دلاتے ہیں۔
سوات کی خوبصورتی میں مزید اضافہ اس کی وادیوں نے کیا ہے۔ ں
وادیوں میں کالام جو سات ہزار فٹ بلند ہے، دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ بھیرین ، مہوڈنت، اتروڑ اور گھیرال سوات کی خوبصورت ترین وادیوں میں شمار ہوتی ہیں۔
Chitral | چترال
چترال کی خوبصورت وادی جوکہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ اپنے شایان شان پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے بہت خاص توجہ کا مرکز ہے۔ یہاں پرسکون برف سے ڈھکی چوٹیوں اور وادیوں کے سلسلے ہیں۔ چترال کے لوگ نہایت امن پسند، پرخلوص اور محبت کرنے والے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو اپنے روایتی رسم و رواج اور تہذیب و تمدن پہ بہت فخر ہے۔ مشہور پولو کا کھیل اسی علاقے سے شروع ہوا۔ اور آج تک بڑے شوق سے کھیلا جاتا ہے۔
دنیا کا بلند ترین پولو گراونڈ اور سٹیڈیم بھی چترال میں ہی ہے۔ جہاں ہر سال پولو کے ٹورنامنٹ ہوتے ہیں۔ چترال کے پہاڑ ٹریکنگ کے شائقین کیلئے بہت مواقع فراہم کرتے ہیں۔
ترشمیر پہاڑ جو 7772 میٹر بلند ہے۔ یہ ان پہاڑوں میں سے ایک ہے، جسے آج تک کسی نے سر نہیں کیا۔ گرم چشمے کی وادی جو کہ چترال سے صرف 40 کلومیٹر کے فاصلے پر کیلاش وادی کے ساتھ واقع ہے۔ یہاں پر گندھک کے پانی کے چشمے ہیں ۔ اور لوگ جلدی امراض کی شفا کیلئے ان میں نہانے آتے ہیں۔
اس جگہ پر، ٹراؤٹ مچھلی کا شکار بھی کیا جاتا ہے۔ وادی کیلاش میں تقریبا 4100 غیر مسلم آباد ہیں۔ کافر کا مطلب ہے بےدین، اور کیلاش کا مطلب ہے کالا۔ چترال کے لوگوں کو عام طور پر کافر کیلاش کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ غیر مسلم ہیں۔ اور ان کے قبائل کی عورتیں زیادہ تر کالے کپڑے پہننا پسند کرتی ہیں۔ عورتیں سرخ اور کالے رنگ کے موتیوں کے ہار، اور سر پر چترالی ٹوپی پہنتی ہیں۔
Kaghan Valley | وادی کاغان
وادی کاغان، پاکستان کی مشہور ترین اور خوبصورت ترین جگہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ وادی تقریبا 160 کلومیٹر طویل رقبے پہ پھیلی ہوئی ہے۔ اور بےپناہ کشش اور قدرتی نظاروں کی وجہ سے جنت نظیر ہے۔ یہاں گھنے جنگلات ہونے کی وجہ سے پہاڑوں کی ہریالی ہر طرف نظر آتی ہے ۔ یہ پہاڑ سلسلہ ہمالیہ کے ساتھ منسلک ہیں۔ وادی کاغان کو پاکستان کے سب سے زیادہ خوبصورت تفریحی مقام کے طور پر پسند کیا جاتا ہے۔ اس لیے یہاں پہ آنے والے سیاحوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ پھولوں سے لدی پہاڑیاں اور خوبصورت ترین جھیلیں خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ کاغان کی زیادہ توجہ کا مرکز ناران کا مقام ہے۔ اور جھیل سیف الملوک ہے۔ اس جھیل کی خوبصورتی کی مثال اس طرح دی جاتی ہے۔ کہ یہاں چودہویں راتوں کو پریاں اترتی ہیں۔
ناران شہر دریائے قندھار کے ساتھ آباد ہے۔ اور سطح سمندر سے 2495 میٹر بلند ہے۔
یہاں پہ وادی کاغان کی چوڑائی زیادہ نظر آتی ہے۔ یہاں پہ دریا ایک خاموش نظارہ کراتا ہے۔ اور کافی چوڑا ہے۔ ناران شہر سے 10 کلومیٹر دور جھیل سیف الملوک ہے۔ ھو سطح سمندر سے 3500 میٹر بلندیپر واقع ہے۔
Gilgit| گلگت
گلگت کو ریشم کی سرزمین کہا جاتا ہے جو کہ اپنے دلکش نظاروں کی وجہ سے بےنظیر ہے۔ یہاں کے پہاڑی قبائلی لوگ، نہایت مہمان نواز، پرجوش اور ملنسار ہیں۔ گلگت فوجی اعتبار سے نہایت اہم خطہ سمجھا جاتا ہے ۔ گلگت چونکہ چائنہ کے قریب ہے۔ اسی لیے چائنہ کی مصنوعات کا مرکز بھی ہے۔ چائنہ کا مشہور ریشم اور مصالحہ جات، گلگت کے بازاروں میں عام دستیاب ہوتے ہیں۔ یہاں کے مقامی لوگ، بغیر ویزا کے، صرف پاسپورٹ دکھا کر سرحد پار کر سکتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنا روائتی لباس پہنتے ہیں ۔ اور اپنی روائیتی تہذیب و تمدن کے قائل ہیں۔
گلگت ہی ایک شہر ہے، جہاں پرانے روائیتی انداز میں پولو کھیلی جاتی ہے۔ یہاں آنے کیلئے سیاح اسلام آباد سے 15 گھنٹے شاہراہ قراقرم پر طویل مسافت طے کرنے کے بعد پہنچتے ہیں۔ شاہراہ قراقرم کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے۔
Hunza Valley | وادی ہنزہ
یہ حسین وادی سو کلومیٹر طویل پھیلے ہوئے بلند ترین پہاڑی سلسلوں میں گھری ہوئی ہے۔ یہاں پر پھیلے ہوئے پہاڑی سلسلوں کی اونچائی، ایک ہزار میٹر تک بلند ہے۔ ہنزہ وادی اپنی چوٹی، جو راکاپوشی کے نام سے مشہور ہے۔ یہ چوٹی 7788 میٹر بلند ہے۔ وادی ہنزہ کے لوگ زیادہ تر اسماعیلی ہیں۔ ان کے رہنے کے طریقے اور پہاڑوں پہ اونچائی پہ بنے گھر، ان کو طاقتور اور تیز رفتار بنا دیتے ہیں۔
ہنزہ وادی کو امن کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔
ConversionConversion EmoticonEmoticon