10 Rules of Life From Dalai Lama

دلائی لامہ ، بدھ مذہب کے روحانی پیشوا کو کہا جاتا ہے ۔ شروع سے ہی ان کا ایک دلائی لامہ چنا جاتا ہے۔ جس کو بدھ مت میں بہت اونچا مقام حاصل ہوتا ہے۔ موجودہ دلائی لامہ جن کا نام لوبسنگ تنزینگ ہے۔ ان کو ان کے بچپن میں ہی صرف 5 سال کی عمر میں بطور دلائی لامہ چن لیا گیا تھا۔
تبت کی سیاست میں دلائی لامہ کی دخل اندازی 2011 کے بعد سے ختم ہو چکی۔ لیکن مذہب کے معاملے میں بدھ مت کے ماننے والوں کیلئے یہی شخصیت سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔  دلائی لامہ نے ایک اچھی زندگی گزارنے کے چند اصول بتائے ہیں۔ جن کا ذکر ہم یہاں کریں گے۔

چند بہترین اصول ذیل ہیں۔

جھگڑوں کو، اپنے تعلقات روندنے کی اجازت نہ دیں۔

ہماری زندگی میں اکثر، اور یم سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ کہ ہم اپنے دوستوں،  گھر والوں سے بحث و مباحثہ میں پڑتے ہیں۔ اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ جہاں بہت سارت برتن اکٹھے پڑے ہوں تو وہ بھی ذرا سی حرکت سے آپس میں بجنے لگتے ہیں۔ ہم تو پھر انسان ہیں۔  اکثر بحث و مباحثہ لڑائی ، اختلاف میں غصے کی وجہ سے ہم ایسے الفاظ ، جملے بھی بول دیتے ہیں۔ جو سامنے والے کو شدید دکھ دے سکتے ہیں۔ 
یاد رکھیں،  غصہ عقل کا دشمن ہے۔ لہذا اس وقت اپنے آپ کو کم سے کم بولنے دیں۔ تاکہ غصے میں بولے گئے لفظ، ہمارے تعلقات میں دراڑ نہ ڈالیں۔ کوشش کریں چپ ہو جائیں۔ جب غصہ اتر جاتا ہے۔ دماغ سوچنا سمجھنا شروع کر دیتا ہے  اس وقت شاید آپ ایسے الفاظ بولنے کا کبھی ارداہ نہ کریں، جو غصے میں آپ بولنا چاہتے تھے۔  اپنی انا کو رشتوں کے بیچ کبھی نہ آنے دیں۔ لڑائی جھگڑے اختلافات کی وجہ سے رشتے مت گنوائیں۔ 

دن میں کچھ وقت اکیلے ضرور گزاریں۔

آج کل کی زندگی بہت تیز ہے۔ بھاگ دوڑ لگی ہے۔ صبح سے شام، کام یا دوسری مصروفیات۔ آبادی بڑھ چکی ہے۔ تنہائی ملنا مشکل ہو چکا۔ اگر ہم اکیلے ہوں، تو بھی فون اور سوشل میڈیا کی بدولت غیر مرئی ھجوم ہمارے اردگرد رہتا ہے۔ ذہنی طور پہ ہمیں تنہائی کا موقع بہت کم ملتا ہے۔
 تھوڑی دیر کیلئے فون کو بند کر دیں۔ کہیں چھت پہ، صحن میں چائے کافی کا کپ لے کر اکیلے بیٹھ جائیں۔ یا کسی پارک میں اکیلے چہل قدمی کیلئے نکل جائیں۔ کچھ وقت کیلئے اپنے دماغ کو ہجوم سے آزاد کریں۔ آپ کا ذہن صاف ہو گا۔ سکون ملے گا۔ اور آپ کو اپنے آپ کا محاسبہ کرنے کا۔ خود کی اصلاح کرنے کا موقع ملے گا۔ جس کا اثر آپ کی روزمرہ زندگی میں بہت سے معاملات پہ پڑے گا۔

اپنے پیاروں سے اختلاف کی صورت، صرف موجودہ مسئلے پہ بات کریں۔ ماضی کے طعنے مت بیچ میں لائیں۔

جب کبھی کسی اپنے سے کسی بات پہ اختلاف ہو۔ بحث مباحثہ شروع ہو جائے۔ تو اسی معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں۔ بجائے اس کو یہ یاد دلانے اور مقابلے کیلئے کہ ہاں تم نے پہلے یہ کیا تھا۔ ایسا کہا تھا، ویسا کیا تھا۔  جو گزر گیا، اس کا واپس آنا ناممکن ہے۔ جو موجودہ ہے اس کو سنبھالیں۔ ماضی کے طعنے مار کر موجودہ حال کو مت خراب کریں۔ اس سے اختلاف و لڑائی بڑھے گی۔ اور زیادہ دوری جنم لے گی۔  

کچھ حاصل کرنے کیلئے کیا کھویا؟

جب بھی آپکو زندگی کے کسی شعبے میں کامیابی حاصل ہو۔ تو اپنے آپ کو جج کریں۔ کہ اس کامیابی کی خاطر آپ نے کیا کچھ کھویا۔ اپنا وقت ؟ نیند؟ پسینہ؟ سکون؟ پیسہ؟ یا اور کچھ۔  جب آپ ان سب باتوں کو یاد رکھیں گے۔ تو آپ کو اس کامیابی کی قدر زیادہ محسوس ہو گی۔ خوشی کا سرور بڑھ جائے گا۔ اور آپ اس پہ مغرور ہو کر حاصل کردہ کو گنوانے سے بچیں گے۔ کیونکہ جس چیز کی زیادہ قدر ہو بندہ اسے زیادہ اچھی طرح سنبھالتا ہے۔


جب آپ ہاریں، کچھ گنوائیں،  تو اس ہار سے حاصل ہونے والا سبق مت بھولیں۔

زندگی میں کامیابیوں کے ساتھ ناکامیوں کا سامنا  بھی کرنا پڑتا ہے۔ وہ سب کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جس کی ہم چاہ کرتے ہیں۔ یا جس کیلئے کوشش کرتے ہیں۔ 
لیکن ناکامی آپ کو گرانے اور توڑنے کیلئے نہیں سبق دینے کو ہوتی ہے۔ لہذا کسی مقصد میں ناکامی کے بعد اس سبق کو مت بھولیں جو اس ناکامی کی صورت ملا۔ کیوں کہ یہ سبق مستقبل میں آپ کی مزید کامیابیوں میں مددگار ہو گا۔

سال میں ایک بار کسی نئی جگہ ضرور جائیں۔

اپنی مصروف زندگی سے چند دن اپنے لیے نکالیں۔ اس دنیا میں ہم صرف کام اور کام اور کام کرنے نہیں آئے۔ لہذا وقت نکالیں۔ اور سال میں ایک بار کسی ایسی جگہ ضرور جائیں،  جہاں آپ پہلے کبھی نہ گئے ہوں۔ نئی جگہ پہ جا کر نیا احساس ہوتا ہے۔ نئی باتیں اور نئی چیزیں پتہ لگتی ہیں۔ جو آپ کی شخصیت، علم اور زندگی کو نکھار دیتی ہیں۔ ابھی بیٹھیں اور ایک لسٹ بنائیں۔ ایسی تمام جگہوں کی جہاں آپ جانا چاہتے ہو، اور جہاں جانا آپ کو اپنے بس میں لگتا ہے۔  پھر ایک ایک کر کے ان کو وزٹ کرنا شروع کریں۔  
میرے گاؤں کے اردگرد 8 گاؤں ہیں۔ جن میں سے چھ میں نے دیکھے۔ دو میں کبھی بھی نہیں جا سکا۔ یہ پوسٹ لکھنے کے بعد میرا ارادہ سب سے پہلے وہاں جانے کا ہے۔ 

ناکامیوں سے سیکھیں ۔

جیسا کہ اوپر بھی بیان کیا ہے۔ کہ زندگی میں ناکامیاں بھی آتی ہیں۔  لہذا مایوس ہونے کی بجائے ان سے سیکھیں ۔ اپنی غلطیوں کو درست کرنے کا موقع لیں۔  ان وجوہات کا پتہ لگائیں ۔جن کی وجہ سے آپ ناکام ہوئے۔ جو سبق زندگی میں ناکامی دیتی ہے۔ وہ کوئی بڑے سے بڑا استاد بھی نہیں دے سکتا۔ 

دوسرے لوگوں کو نقصان مت پہنچائیں۔

انسان بہت سی مختلف فطرتوں کا مالک ہے۔ ایسے ہی مختلف حیثیتوں کے لوگ بھی ہیں۔ کچھ بےضرر ہوتے ہیں ۔ جو کسی کا برا نہیں چاہتے۔ کچھ شرارتی طبیعت کے۔ اور کچھ خبیث۔ اب یہ آپ پہ ہے کہ آپ کس درجہ میں خود کو شامل کرنا چاہتے ہیں۔  ہم جو بوتے ہیں وہ کاٹنا بھی پڑتا ہے ۔ جو دیا جاتا ہے۔ وہ لوٹ ہر واپس بھی آتا ہے۔ ایسے محاورے ہم سب نے ہی پڑھے ہوں گے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے ان کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش بھی کی ہے؟؟ اگر آپ کے پاس موقع ہے۔ یا طاقت ہے۔ یا کوئی وجہ ہے کہ جس کی وجہ سے آپ کسی کا کچھ بگاڑنا چاہتے ہو۔  رک جائیں۔ 
خود پہ قابو پائیں۔ اور جانے دیں۔ کسی کو نقصان مت دیں۔ اگر تو اس نے آپ کے ساتھ کچھ برا کیا ہے۔ تو جواب میں اسے نقصان دے کر آپ بھی برا ہی کرو گے۔ اور اگر آپ اپنی انا، فطرت یا ایسی کسی حس کی تسکین کیلئے کسی کا نقصان کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ تو ایک وقت آئے گا۔ آپ پچھتائیں گے۔ یا بھگتیں گے۔۔۔

خاموشی آپ کی دوست ہے۔

بولا کریں۔ لیکن حساب سے۔ زیادہ بولنے والے بےوقوف بھی کہلاتے ہیں۔ اور کبھی اپنے الفاظ کی وجہ سے نقصان بھی اٹھاتے ہیں۔ خاموشی ہی آپ کی سب سے اچھی دوست ثابت ہو گی۔ آپ کی عافیت کا سبب بنے گی۔ یہاں خاموس رہنے سے مطلب منفی خاموشی نہیں، جس کا اصل مطلب بےحسی ہوتا ہے۔ کہ غلط ہوتا دیکھ کر بھی چپ رہنا، آواز نا اٹھانا۔  وہاں بےشک بولیں،  پوری قوت سے بولیں۔ لیکن فضول مت بولیں۔۔

اگر آپ کو تحریر مفید لگی ہو۔ تو پہلے غور کریں۔ اور مفید باتوں کو اپنی زندگی میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ پھر دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ کوئی اور بھی فائدہ اٹھا سکے۔ کیونکہ علم تقسیم کرنے سے بڑھتا ہے۔  آپ کو یہاں بیان کی گئی کسی بھی بات سے اختلاف کا پورا حق ہے۔ ہماری تصیح فرمائیں۔
اگر آپ کے پاس ہمارے ساتھ شیئر کرنے کو مفید تحریر ہو، تو نیچے کانٹیکٹ سے ہمیں بھیجیں۔
مزید اچھی تحاریر پڑھنے کیلئے،  نیچے کونے میں موجود گھنٹی کو دبا دیں۔ اگلی تازہ ترین پوسٹ کا نوٹیفیکیشن آپ کو ملتا رہے گا۔

اللہ ہم سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین ۔
Previous
Next Post »