Few Reasons, Why People Ignore You

لوگ آپ کو نظر انداز کیوں کرتے ہیں :

ہم میں سے اکثر لوگوں کو شکایت ہوتی ہے۔ کہ انکی باتوں پر دھیان نہیں دیا جاتا۔ یا اکثر انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے ۔
دراصل جب آپ نئے لوگوں سے ملتے ہیں۔ تو اپنا امیج خود بنانا ہوتا ہے۔ آپ نے خود لوگوں کو دکھانا ہوتا ہے۔ کہ ان کا رویہ آپ کے ساتھ کیسا ہو گا۔ اور وہ آپ کو کتنی اہمیت دیں گے۔ کیونکہ جتنا سنجیدہ آپ اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو لیں گے۔ بدلے میں ان کا برتاؤ بھی آپ کے ساتھ بلکہ ویسا ہی ہو گا۔ اگر آپ نظر انداز ہورہے ہیں۔ تو یقینا ان غلطیوں میں سے کچھ غلطیاں آپ بھی کر رہے ہونگے۔


لوگوں کی پیٹھ پیچھے برائی :


کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔  کہ جب محفل میں بیٹھتے ہیں، تو دوسروں کی برائیاں کرتے انکی خامیوں کو زیر بحث لاتےہیں۔ لوگوں کی غیر موجودگی میں انکے خلاف باتیں کرنے سے جس کے متعلق بات کر رہے ہوں۔ اس کی عزت میں فرق آئے یا نہ آئے۔ دراصل آپ اپنا امیج خراب کر رہے ہوتے ہو تے ہیں۔ کیونکہ جس کے ساتھ آپ بات کر رہے ہو۔ اس کو اندازہ ہو جاتا ہے۔ کہ جب آپ  اس کے پاس سے اٹھ کے کہیں اور جاؤ گے۔ تو اس بندے کے متعلق بھی ایسے ہی برا بولو گے۔
لوگوں کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنا اصل میں شدید احساس کمتری کی علامت ہے۔ اکثر لوگ جب کسی سے مقابلہ نہیں کر پاتے۔ تو اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے، اپنے اندر کی فرسٹریش نکالنے کیلئے، انکی پیٹھ پیچھے برائیاں کر لیتے ہیں۔ یا دوسروں کے سامنے ان کا امیج خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

منفی رویہ :


 آپ جب بھی بات کرتے ہیں، تو اکثر آپ کا رویہ منفی ہو گا۔ جیسے ہی کوئی دوسرا بات کرتا ہے۔  آپ ساری مثبت باتوں کو چھوڑ کر صرف اور صرف منفی پہلو زیر بحث لے آتے ہیں۔ ہر بات میں منفی پہلو نکالنا بذات خود ناخوش ،ناکام اور قابل رحم ہونے کی نشانی ہے۔ جیسے کوئی بڑے خلوص سے آپ کے پاس مشورہ لینے آئے۔ اور آپ اس کو ہمت دینے کی بجائے الٹا پریشان کر کے بھیج ۔ تو اگلی بار بندہ آپ کو اگنور کرے گا۔ دور رہے گا۔
اس لیے ہمیشہ کوشش کریں مثبت رہیں۔ اور مثبت سوچیں ۔

موڈ میں رہنا : Staying in Over Attitude.


 آپ سے جب کوئی ملے تو آپ کا رویہ خوش گوار ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر ہر وقت آپ تیوری چڑھا کر رکھیں گے۔ یا غرور سے بات کریں گے۔  تو لوگ آپ سے ملنے سے ہچکچاتے ہیں۔ کوئی بھی اپنے سامنا ٹیڑھا سا منہ پسند نہیں کرتا۔

بہت زیادہ شکائتیں کرنا : You complaints too much.


‏ہم ہمیشہ اپنا ہی رونا روتے رہتے ہیں۔
ہر بندے کی اپنی شکایات ہیں۔ اسے لگتا ہے۔ صرف اسکی زندگی مشکل ہے۔  اور اسکے ساتھ سہی نہیں ہو رہا۔ اور یہ تو جیسے ہمارا قومی فریضہ بن چکا ہے۔
شکایتوں اور رونے دھونے والی باتوں سے کسی بندے کو خوشگواریت کا احساس نہیں ہوتا۔ بلکہ لوگ الٹا اکتا جاتے ہیں۔ اور آپ سے دور بھاگتے ہیں۔

لوگوں کو جج کرنا: Stereotype 

ہم سے اکثر اپنی طرف سے دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔  اور اسی کو سچ مان کر بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ اصل میں ہم جس بندے کو جج کر رہے ہوتے ہیں۔  اسے فرق پڑے نہ پڑے لیکن جس طرح آپ اس کے متعلق بول رہے ہوتے ہو۔  اس سے اپنی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے۔  اگر سب محسوس کریں گے۔ کہ آپ انہیں جج کر رہے ہیں تو آپ سے متنفر ہو جائیں گے ۔

آپ جھوٹ بولتے ہیں:


Big or small, Lies are lies.

ہم جتنا زیادہ جھوٹ کو اپنی گفتگو کا حصہ بنائیں گے۔ لوگوں کے دلوں میں ہماری اہمیت اتنی کم ہو جاتی ہے ۔ بہت سے لوگ اپنی باتوں میں سنسنی ڈالنے کیلئے،  جھوٹ کی ملاوٹ کرتے ہیں۔ جو ان کے بارے میں منفی رائے اجاگر کرتی ہے  لوگ کہتے ہیں۔ یہ تو چھوڑتا ہے۔ آپ پر سے لوگوں کا اعتماد کم ہو جاتا ہے۔ اور لوگ آپ کی پرواہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی کی سچائی کی دشمن بھی گواہی دیتے تھے۔ سچائی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیں ۔

اپنی رائے کو منوانا :


ہم سے اکثر اپنی رائے اور خیالات کو حقیقت بنا کر پیش کرتے ہیں۔  سب سے پہلے دوسروں کے بارے میں کچھ فرض کرتے ہیں۔ اور پھر محفل میں ایسے بیان کرتے ہیں۔ جیسے یہ ہی حقیقت ہے۔ ہر بندہ ہمارے اس ٹیچر کی طرح نہیں ہوتا۔ کہ جسے پتہ نہ ہو آپ پچھلے بینچ پر بیٹھ کر کیا کر رہے ہو۔
اس لیے وہ بولا کریں۔ جس کے بارے میں آپ تصدیق کر چکے ہوں۔ کہ یہ سہی اور مستند ہے۔ اور ویسے بھی اوروں کے بارے زیادہ رائے سے پرہیز ہی کرنا چاہیے ۔

جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں :


ہماری سب سے بڑی کمزوری ہی یہ ہے۔ کہ ہم جو کہتے ہیں وہ خود نہیں کرتے۔
لمبی لمبی تقرریں تو کرتے ہیں۔ مگر جب ان پر عمل درآمد کا وقت آتا ہے۔ تو خود سب سے پیچھے ہوتے ہیں ۔
عزت و اہمیت  اسی کی ہوتی ہے۔ جو اپنے قول و فعل پر عمل درآمد کرے۔
اگر آپ چاہتے ہیں۔ کہ لوگ آپ کو عزت دیں۔ آپکی باتوں پر توجہ دیں۔ تو ان کے ساتھ مخلص رہیں۔ اگر کسی کو کچھ غلط کرتا دیکھیں۔ تو انہیں بڑے خلوص سے سمجھائیں۔ کہ اس سے ان کو کیا نقصان ہو گا۔ لوگوں کو مشورہ دیتے وقت چاپلوسی کی بجائے ایمانداری کا مظاہرہ کریں گے۔ تو یہ زیادہ بہتر رہے گا۔  اس لیے لمبی لمبی چھوڑنے کی بجائے صرف مختصر بولیں۔ اور وہی بولیں جس پر خود عمل کرتے ہوں۔

By: Ayesha Malik
Previous
Next Post »

1 comments:

Click here for comments
Unknown
admin
26 December 2018 at 07:03 ×

عمدہ ایک اور ٹوپک ساتھ میں ملائے توجہ سے سننا دوسروں کو

Congrats bro Unknown you got PERTAMAX...! hehehehe...
Reply
avatar